" کرونا ویکسین تک رسائی ممکن "

کرونا ویکسینیشن اُسی وقت تیار ہو گئ  تھی جب انسان کو انسان کا خیر خواہ بنا کر بھجا گیا تھا. جس وقت احساس کا بیج بویا گیا تھا اور اُسی روز انسان کے سر پہ انسانیت کا تاج سجایا گیا تھا، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ احساس کا ننھا سا پودا پنپنے کی بجاۓ جل کر راکھ ہو رہا ہے . کرونا جیسا وبائی مرض صرف احساس اور انسانیت نامی ویکسینز کا محتاج ہے.اگر بگڑتے ہوۓ ان حالات کو مدِ نظر رکھا جاۓ تو  یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت تو ، انسانیت کی ہی محتاج ہے. اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان ہی انسان کا محتاج ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ انسان، انسانیت اور احساس کا محتاج ہے. دیکھا گیا ہے کہ آدمی یا عورت غریبوں کے لیے کھانا لے کر نکلے تو چوراہے پر منٹوں میں ایک مجمع لگ جاتا ہے۔ ان میں وہ پیشہ ور افراد بھی ہوتے ہیں جو ہتھوڑے سے گاڑی کے شیشے توڑ کر اشیا نکال کر لے جانے کا اظہار اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا یہ انسانی بھوک ہے، لالچ یا پھر جرم ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھوکے اور بے روزگار لوگ ضرورت کی وجہ سے غصے اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہوں۔ سنا ہے جب بھوکا آدمی تڑپتا ہے تو کسی کی نہیں سنتا۔ جو لوگ اور پارٹیاں 500 اور 1000 روپیہ دے کر اس غریب یا خیرات کے ساتھ سیلفی بنا رہے ہیں وہ اصل میں ان غریبوں کو تو شرمندہ کر ہی رہے ہیں ساتھ وہ اپنے بارے میں بھی بہت کچھ بتا رہے ہیں، اسے انسانیت نہیں منافقت کہیں تو بہتر ہے
 طب اور دین کو جس طریقے سے ہم نے کورونا بحران میں ملایا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ وباء کے علاج سے متعلق قرآنی اور حدیثی نسخوں کی ایک بھرمار دیکھنے میں آئی ہے۔ ہمارے کچھ علما نے تو دین کی روح میں کورونا وائرس کی وجہ بھی ثابت کردی ہے۔ میڈیا بھی اس جنگ میں پیچھے نہیں رہا اور صبح شام کے شوز میں گھر بیٹھے لوگوں کو کافی ٹوٹکے بتائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان برپا ہے۔  یہاں تک کے شوبیز کے سکینڈلز کا سیزن شروع ہو چکا ہے، جیسا کہ  سبزواری خاندان کی شادیاں، عظمیٰ خان اور ملک ریاض کی بیٹیاں وغیرہ. جبکہ مسجدیں تو ویران ہوئی ہیں اور موت کے ڈر سے گھر میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد میں ضرور اضافہ ہوا ہے۔ اگر کسی چیز کی کمی رہ گئی ہے تو وہ احساس اور انسانیت  ہے
پاکستان میں ہر چیز غیر اعلانیہ طور پر بند ہو چکی ہے۔ آٹا چینی اور پیٹرول کی نایابی تو  پوری دنیا سے ہمیں منفرد کیے ہوے ہے. ہاں لیکن توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے جو کہ اصل علاج ہےاور اسے کوئی یا حکومت بند کر سکتی ہے اور نہ ہی اسے نایاب کیا جا سکتا ہے ۔پاکستانی قوم سے درخواست ہے اللہ سے اس وائرس کے خلاف دل سے دعا مانگیں۔ اگر دعا میں اثر محسوس نہ ہو تو روز مرہ کی اشیاء کی قیمتیں کم کر کے اور غریبوں کی مدد کر کے دیکھیں دعا میں اثر بھی ہوگا اور ادائیگی میں جذبات بھی اور پھر یہ آواز اللہ کے پاس جلدی پہنچے گی۔ جب انسان کا نقطہ نظر تبدیل ہوتا ہے تو جذبات بھی بدل جاتے ہیں۔ جب قوم اپنا نقطہ نظر بدلے گی تو دعا ضرور قبول ہو گی۔

تبصرے