تبصرے ہوتے رہے، ملک چلتا رہا
آج کل کے ماحول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس تحریر کو یہ عنوان دینا وقتی تقاضا ہے. کیونکہ صرف ہمارا ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کرونا وائرس جیسے وبائی مرض کر زد میں ہے. لیکن اس کا علاج تلاش کرنے سے امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی قاصر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا رہا کی یہ وائرس اسی ملک کا بنایا ہوا ہے تاکہ چائنہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کو تباہ کر کے خود کو ابدی عروج بخشا جائے. خیر یہ سب تو رہیں وہ باتیں جو اب تک ہماری عوام کر رہی ہے. اور ہمارا ملک پاکستان تو وہ ملک ہے جس کی عوام آج بھی اپر کلاس اور مڈل کلاس کے ذاتی تناؤ سے باہر نہ آ سکی اور حکومت کی اچھی بُری کارگردگی پر عوام کی طرف سے کیے جانے والے تبصرے ہی اس ملک کر ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں اور یہی تبصرے ملک چلا رہے ہیں باقی رہا اصل ریڑھ کی ہڈی (Bureaucracy) کا کام، وہ تو بس عوام کو کھٹے میٹھے واقعات، چٹکلے اور سنگین حادثات فراہم کرنا ہے تا کہ عوام تبصرے کرتی رے وکیل اور جج کی کرسی سنبھالتی رہے اور ملک چلتا رے. اب آتی ہے اس وبائی مرض کی بات جس نے پوری دنیا ...